ٹی 20 میچ میں جاپان کی کڑی ٹکر، بھارت کی صرف دو رنز سے متنازع جیت
جاپان کے سانو انٹرنیشنل کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پانچ اوورز کے ’ٹی ٹوئنٹی‘ کرکٹ میچ میں بھارت شرمناک شکست سے دوچار ہوتے ہوتے بال بال بچ گیا۔ عالمی چیمپیئن بھارت جاپان کی نوزائیدہ ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد صرف دو رنز سے شکست دے پایا۔
سوزوکی کپ کے تحت دونوں ممالک کے ستر سالہ سفارتی تعلقات کے موقع پر کھیلے گئے اس واحد میچ کو طوفانی بارش اور گراؤنڈ کی ناقص ڈرینیج کے باعث فی اوور پانچ پانچ اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔
بھارتی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پانچ اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر صرف 32 رنز ہی بنا سکی، جس کے جواب میں جاپانی ٹیم تین وکٹوں کے نقصان پر 30 رنز بنا سکی۔
پانچ اوورز کے ٹی ٹوئنٹی میں سب سے کم ہدف کا کامیابی سے دفاع کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کے باوجود اس میچ نے کئی نئے تنازعات اور بحث کو جنم دیا ہے۔
میچ کا آغاز مسلسل دو دن کی بارش کے بعد انتہائی تاخیر سے ہوا، جس کے باعث گراؤنڈ سکھانے کی سہولیات کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنے والی بھارتی ٹیم کو جاپانی اسپنرز نے سخت مشکل میں ڈالے رکھا۔
بھارتی اوپنر ابھیشیک شرما میچ کی پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، جو سال 2026 میں ان کا ساتواں صفر ہے۔
جاپانی بولرز چارلی ہارا ہنزے نے دو وکٹیں حاصل کر کے بھارتی ٹاپ آرڈر کو دباؤ میں رکھا، جس کے بعد کپتان شریاس ایّر کے 16 رنز کی بدولت بھارت کسی حد تک 32 رنز کے مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

پورے میچ میں محض چار چوکے لگے اور جاپانی بولنگ کی بدولت بھارتی ٹیم کا اسپنرز کے خلاف کمزور کھیل شدید تنقید کی زد میں آیا۔
جواب میں 32 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جاپان نے بھی شاندار مقابلے کا مظاہرہ کیا اور کیپٹن کینڈل کاڈوواکی فلیمنگ نے 12 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔

آخری اوور میں جاپان کو فتح کے لیے آٹھ رنز درکار تھے جب کریز پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔
آخری اوور کے دوران جب جاپانی بیٹر ریورس ہٹ کی کوشش کر رہے تھے تو نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے امپائر کرس براؤن نے اپنے ساتھی امپائر کرس تھرگیٹ سے مشورہ کر کے دیے گئے وائڈ بال کے فیصلے کو واپس لے لیا۔
اس فیصلے پر کرکٹ شائقین اور تبصرہ نگاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے امپائر پر دباؤ ڈال کر فیصلہ تبدیل کروایا جس سے جاپان کی فتح کا موقع متاثر ہوا۔
آخری اوور میں اکشر پٹیل نے شاندار اور نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے دو اوورز میں سات رنز کے عوض کوئی وکٹ لیے بغیر بھارت کو آخری گیند پر دو رنز سے فتح دلا دی۔
قوانین کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا اور جاپانی بیٹر کا وزن کم ہونے کا نقطہ بھی زیر بحث آیا۔ اس فتح کے باوجود بھارتی ٹیم کی ناقص بیٹنگ، اسپن کے خلاف مشکلات اور امپائرنگ پر ہونے والے احتجاج نے اس تاریخی میچ کے نتائج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔